سالگرہ مبارک ۔۔۔
آج کا دن گزر ہی نہیں رہا۔ شاید اس لیے کہ ایک روایت، ایک عادت، ایک ضرورت، ایک چاہت… اس طرح پوری نہیں ہوئی، جیسے ہونی چاہیے تھی۔
آج میری اکلوتی، بہترین دوست صدف کی سالگرہ ہے۔ وہ دوست جو اس دورِ ناتواں میں دوستی کے تمام تقاضے پورے کرتی ہے۔ مگر آج میں حسبِ معمول رات کے بارہ بجے جاگ کر اسے مبارک باد نہیں دے سکی۔ نیند اور تھکن مجھ پر غالب آ گئیں اور میں نے اسے صبح سالگرہ کی مبارک باد دی۔
سب کچھ معمول کے مطابق ہونے کے باوجود آج کا دن غیر معمولی طور پر ادھورا لگ رہا ہے۔
صدف کو مبارک باد دینے کے لیے میں جاگتی رہتی، یا الارم لگا کر سوتی، صرف اس دوڑ میں کہ کہیں مجھ سے پہلے کوئی اسے مبارک باد نہ دے دے۔ یقیناً ایسا بھی ہوا ہوگا، لیکن صدف نے ہمیشہ میرا دل رکھا۔ ہمیشہ کہا، ’’تم نے ہی مجھے سب سے پہلے وش کیا تھا۔‘‘
خیر، اتنی سی تو بات تھی۔ مبارک باد دے دی، بعد میں ہی سہی۔ مگر میں کیسے سمجھاؤں کہ یہی اتنی سی بات تو میرے لیے سب کچھ تھی؟ بعض باتیں بظاہر بہت چھوٹی ہوتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے احساسات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ باتیں بس اہم ہوتی ہیں، اور صدف میری زندگی میں بہت اہم ہے۔
اتنی اہم کہ اس کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی کسی اور مخلص دوست کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ وہ میرے لیے کافی تھی، کافی ہے اور ہمیشہ کافی رہے گی۔
یہ تو صرف ایک چھوٹی سی بات ہے، جو میرے جذبات کی عکاسی کر رہی ہے۔ پھر میں اپنے باقی احساسات کو لفظوں میں کیسے بیان کروں؟ کچھ رشتے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، بس زندگی میں ان کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے۔
صدف، دعا ہے کہ تمہاری زندگی کا یہ سال اور اس کے بعد آنے والا ہر دن پہلے سے بہتر اور بہتر سے بہترین ہو۔ اور اگر کبھی مشکل آئے تو وہ تمہیں توڑنے کے بجائے تمہیں اور بلند اڑان دینے کے لیے تند و تیز ہوا بن جائے۔
تم اپنے نام کی طرح صدف کے سینے میں چھپے اس نایاب موتی کی طرح رہو، جس کی چمک وقت کے ساتھ مدھم نہیں، مزید روشن ہوتی جائے۔
سالگرہ مبارک، میری صدف!
تم صرف میری دوست نہیں ہو، تم اس یقین کا نام ہو کہ اس دنیا میں آج بھی ایک ایسا رشتہ موجود ہے جسے کسی وضاحت، کسی شرط اور کسی متبادل کی ضرورت نہیں۔
تم ہو، تو دوستی مکمل ہے۔
