My Blogs

آگ کا دریا

اس بار عید بے حد شاندار گزری۔۔ ایک دو نہیں بلکہ پورے رمضان  تیس دن بغیر آف لئے کام کرنے پر عید کی چار چھٹیاں ایک ساتھ مل گئیں۔۔ شاید ایک طویل عرصے بعد ایسا موقع ملا کہ اتنی طویل تعطیلات سے بھرپور استفادہ کرنے کا حق نصیب ہوا۔۔ایسے میں ایک پُرتشفی کام یہ ہوا کہ کچھ نئی کتابیں ہاتھ لگیں اور کچھ کی دوبارہ ورق گردانی کا سامان ہوا۔۔ اس میں سرفہرست آگ کا دریا ہے۔۔ اس ناول کو کئی سال قبل وقت کی ضرورت اور دوستوں پر رعب جھاڑنے کے لیے بے دلی سے پڑھا ضرور، لیکن ہر بار اس کی روح کو سمجھے بغیر واپس اپنی جگہ رکھنا پڑا۔۔

آگ کا دریا، سجاد حیدر یلدرم کی صاحبزادی قرۃ العین حیدر کا وہ شاہکار ہے جس نے اردو ادب میں ناول لکھنے کی صنف، تکنیک اور انداز کو نہ صرف یکسر چیلنج کیا بلکہ اسے بدل کر رکھ دیا۔۔ اس بار اس ناول کو پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ محسوس کرنے کے لیے اٹھایا۔۔

اس ناول کی شروعات ٹی ایس ایلیٹ کی نظم سے ہوتی ہے۔۔ جس میں وقت کو دریا کی تمثیل میں قید کرکے اس میں بہنے والوں کے کرب کو بیان کیا گیا ہے۔۔ دو صفحوں کی اس نظم میں آگ کا دریا جیسے طویل ناول کا خلاصہ پنہاں ہے۔۔

یہ ناول ادب میں فلسفے، تاریخ اور منطق کی معراج سمجھا جاتا ہے۔۔ جس میں نہ تو کوئی پلاٹ حاوی ہے نہ کوئی کردار۔۔ اگر کوئی شے اس کو بیان کرتی ہے تو وہ ہے “وقت”، جسے دریا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔۔

ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کو چار حصوں میں بیان کیا گیا ہے، جس میں چار کردار دراصل ایک ہی شخص کے مختلف روپ ہیں جو وقت کے دریا میں بدل بدل کر سامنے آتے ہیں۔۔

وقت کا دھارا انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا بلکہ اس احساس کو شدت سے ابھارتا ہے کہ سرحد بدل جائے، وقت بدل جائے، مذہب بدل جائے، لیکن بنیاد ایک ہی رہتی ہے، پہچان ایک ہی رہتی ہے، اور ایک روپ دوسرے کے بغیر ادھورا ہے۔۔ اس وقت کے دریا میں روحیں ایک ہی ہیں، جو وقت کے بہاؤ میں گردش کرتی رہتی ہیں اور تاریخ کو دہراتی ہیں۔۔

یہ ناول آئی ڈینٹیٹی کرائسسز کا جواب ہے، تقسیم کا مخالف ہے، اور اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا قائل ہے۔۔ یہ ایک ایسا دریا ہے جو آزادی کے اصل مقصد کی پہچان حاصل کرنے کے لیے بہہ رہا ہے۔۔

آگ کا دریا میں جو صنف استعمال کی گئی ہے وہ ہے شعور کی رو۔۔ یعنی اسٹریم آف کونشئیسنیس ۔۔ اس نظریے کے مطابق انسانی شعور ایک سیال مادے کی طرح ہوتا ہے۔۔ کبھی انسان کے ذہن میں ایک خیال جنم لیتا ہے اور پھر خیالات و تصورات ایک فلم کی طرح چلنے لگتے ہیں۔۔

یہاں کردار اہم نہیں بلکہ ان کے احساسات کی منظر کشی کی گئی ہے۔۔ جو چار کردار ہیں، گویا وہ ایک ہی ہیں۔۔ اور ایک دوسرے کے بغیر ادھورے بھی۔۔ یہ ناول ڈھائی ہزار سال سے تقسیم ہند تک کی تاریخ کو بیان کرتا ہے۔۔ ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ چلتے ہیں۔۔

قرۃ العین حیدر کا یہ تیسرا ناول تھا۔۔ جو انہوں نے انیس سو چھپن یا ستاون میں تحریر کیا، لیکن انیس سو انسٹھ میں شائع ہوا۔۔ گویا تقسیم ہند کے ایک دہائی بعد۔۔ ایک کتاب میں اس ناول کو لکھنے کی وجہ بسنت کو قرار دیا گیا ہے۔۔ اینی آپا سے ان کی چھوٹی کزن نے دریافت کیا کہ “بسنت کیا ہے؟” — اس سوال نے انہیں اس قدر چونکا دیا کہ ثقافت سے نسل کو جوڑے رکھنے کے لیے انہوں نے ایک طویل ترین ناول تحریر کر دیا۔۔

ناقدین اب یہ بھی کہتے ہیں کہ اچھا ہوا کہ اینی آپا اس دنیا سے کوچ کر گئیں، ورنہ نئی نسل کی اپنی ثقافت سے دوری پر شاید وہ خودکشی کرلیتیں ۔۔

میں شکر گزار ہوں عید پر ملنے والی ان چھٹیوں کی، اور اپنی پیاری بہن زینب آپا کی، جنہوں نے مجھے اپنا قیمتی ناول ۔۔ جو انہیں ان کے دادا نے دیا تھا ۔۔  آگ کا دریا کچھ دنوں کے لیے پڑھنے کو عنایت کیا۔۔ اور مجھے ان بہترین احساسات کو محسوس کرنے کا موقع ملا